Breaking News

Dhoka Mujhe Diye Pe Hua Aaftaab Ka دھوکہ مُجھے دِیے پہ ہُوا آفتاب کا

دھوکہ مُجھے دِیے پہ ہُوا آفتاب کا ذِکرِشراب میں بھی نشا ہے شراب کا جی چاہتا ہے بس اُسے پڑھتے ہی جائیں ہم چہرا ہے یا ورق ہے خُدا کی کِتاب کا سُورج مُکھی کے پُھول سے شاید پتا چلے منہ جانے کِس نے چُوم لِیا آفتاب کا مٹّی تُجھے …

Read More »

Andar Ka Zahar Choom Liya, Dhul Ke Aa Gayeاندرکا زہر چُوم لیا، دھُل کے آ گئے

اندرکا زہر چُوم لیا، دھُل کے آ گئے کِتنے شریف لوگ تھے سب کُھل کے آ گئے سُورج سے جنگ جیتنے نِکلے تھے بیوقُوف سارے سِپاہی موم کے تھے گُھل کے آ گئے مسجِد میں دُور دُور کوئی دُوسرا نہ تھا ہم آج اپنے آپ سے مِل جُل کے ‌گئے …

Read More »

Andhere Chaaron taraf Saaen Saaen karne lageاندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے

اندھیرے چاروں طرف سائیں سائیں کرنے لگے چِراغ ہاتھ اُٹھا کر دُعائیں کرنے لگے ترقّی کر گئے ہیں موت کے سب سوداگر یہ سب مریض ہیں جو اب دوائیں کرنے لگے لہوُ لُہان پڑا تھا زمیں پہ اِک سُورج پرِندے اپنے پروں سے ہوائیں کرنے لگے زمیں پہ آ گیا …

Read More »

Sula Chuki Thi Ye Duniya Thappak Thappak Ke Mujheسُلا چُکی تھی یہ دنیا تھپک تھپک کے مجھے

سُلا چُکی تھی یہ دنیا تھپک تھپک کے مجھے جگا دیا تیری پازیب نے کھنّک کے مجھے کوئی بتائے کہ میں اِس کا کیا علاج کروُں پریشاں کرتا ہے یہ دل دھڑک دھڑک کے مجھے تعلقات میں کیسے دڑاڑ پڑتی ہے دکھا دیا کسی کم ظرف نے چھلک کے مجھے …

Read More »

Agar Khilaaf Hai Honay Do Jaan Thodi Haiاگر خِلاف ہے، ہونے دو، جان تھوڑی ہے

اگر خِلاف ہے، ہونے دو، جان تھوڑی ہے یہ سب دھواں ہے، آسمان تھوڑی ہے لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں یہاں پہ صِرف ہمارا مکان تھوڑی ہے میں جانتا ہوں کے دُشمن بھی کم نہیں لیکِن ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے ہمارے مُنہ …

Read More »

Kuchh Nahi Maangta Shaahon Say Yeh Shaida Teraکچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا تہہ ‮‮بہ تہہ تیرگیاں ذہن پہ جب ٹوٹتی ہیں نُور ہو جاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا کچھ نہیں سُوجھتا جب پیاس کی شدّت سے مجھے چھلک اُٹھتا ہے میری روح میں مینا …

Read More »

Koi To Hai Jo Nizaam E Hasti Chala Raha Hai Wohi Khuda Hai کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے

کوئی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے دکھائی بھی جو نہ دے نظر بھی جو آ رہا ہے وہی خدا ہے تلاش اُس کو نہ کر بتوں میں وہ ہے بدلتی ہوئی رُتوں میں جو دن کو رات اور رات کو دن بنا رہا ہے …

Read More »